Jadoie darwaz part 3

 

بہت خوب! آپ تیار ہیں جادوئی دروازہ کی کہانی کے تیسرے حصے کے لیے؟ تو آئیے چلتے ہیں اُس دنیا میں جہاں سچائی، جادو اور ہمت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔


جادوئی دروازہ – حصہ سوم: وقت کا قیدی

علی اب جادوئی دنیا کا رازدار بن چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دروازہ اُسی کے لیے کھلتا ہے جو دل کا سچا ہو۔ لیکن ایک دن، جب علی دروازے کے پاس گیا، تو وہ خودبخود کھل گیا… بغیر کسی روشنی، بغیر کسی آواز کے۔

یہ بار کچھ عجیب تھا۔

اندر داخل ہوتے ہی، علی نے خود کو ایک پرانی لائبریری میں پایا۔ دیواروں پر گھڑیاں لٹک رہی تھیں، جو سب مختلف وقت دکھا رہی تھیں۔ ایک گھڑی تو اُلٹا چل رہی تھی!

پری کی آواز آئی، لیکن وہ کہیں نظر نہ آئی۔

"علی! وقت قید ہو چکا ہے۔ جب تک وقت کو آزاد نہ کیا جائے، یہ دنیا جادو سے خالی ہو جائے گی۔"

علی نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص، جس کی آنکھیں سچ بولنے کی عادت سے چمک رہی تھیں، گھڑیوں کے درمیان بیٹھا تھا۔

"تمہیں وقت کو آزاد کرنے کے لیے اپنی سب سے قیمتی یاد قربان کرنی ہو گی،" اُس نے کہا۔

علی نے حیرت سے پوچھا، "میری یاد؟"

"ہاں، وہ لمحہ جو تم سب سے زیادہ یاد رکھتے ہو۔"
علی کی آنکھوں کے سامنے وہ لمحہ آیا جب اس کی امی نے اسے گلے لگایا تھا جب وہ پہلی بار اسکول سے انعام جیت کر آیا تھا۔

دل تھام کر اُس نے کہا، "میں تیار ہوں۔"

جیسے ہی اُس نے ہاں کہا، ساری گھڑیاں ایک ساتھ بجنے لگیں، لائبریری روشن ہو گئی، اور پری ظاہر ہوئی۔

"تم نے قربانی دے کر وقت کو آزاد کر دیا، علی۔ اب تم نہ صرف ہماری دنیا کے رکھوالے ہو، بلکہ وقت کے محافظ بھی۔"

علی کی آنکھوں سے ایک آنسو بہہ نکلا… خوشی اور فخر کا۔


آگے کیا ہوگا؟
کیا علی اب دنیا کے دوسرے بچوں کو بھی جادوئی دروازے سے روشناس کرائے گا؟
کیا اسے کبھی اپنی قربان کی گئی یاد واپس ملے گی؟

اگر آپ چاہیں، تو حصہ چہارم بھی تیار ہے… بس کہنا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Balochistan ki history Urdu zaban me

Panjab history in Urdu language

Marvi story Urdu me