Jadoie darwaza part2
زبردست! آپ کو "جادوئی دروازہ" کی کہانی کا دوسرا حصہ چاہیے؟ تو آئیے سفر کو وہیں سے آگے بڑھاتے ہیں جہاں ہم نے چھوڑا تھا:
جادوئی دروازہ – حصہ دوم: سچائی کا امتحان
علی جب جادوئی دنیا سے واپس آیا تو اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور دل میں ایک نئی روشنی۔ لیکن اس کا دل پھر بھی اس جادوئی دنیا کے لیے بے چین تھا۔ ایک رات جب سب سو گئے، دروازے سے ہلکی سی روشنی باہر آنے لگی۔ علی نے دیکھا تو حیران رہ گیا – وہی جادوئی دروازہ پھر سے چمک رہا تھا!
علی نے ہمت کی، اور دروازے میں قدم رکھا۔ اس بار منظر کچھ اور تھا۔ وہی وادی، لیکن اب فضا میں سنّاٹا تھا۔ درخت خاموش تھے، پانی ساکت تھا، اور سب جانور غائب۔
پری ایک بار پھر ملی، لیکن اس بار وہ پریشان لگ رہی تھی۔
"علی، ہماری دنیا پر ایک سایہ آ گیا ہے۔ ایک جھوٹ کی وجہ سے یہاں کی روشنی بجھ رہی ہے۔"
علی نے پوچھا، "جھوٹ کس نے بولا؟"
پری نے آہستہ سے کہا، "یہ تمہیں تلاش کرنا ہے۔ اور یاد رکھو، سچائی تک پہنچنے کے لیے تمہیں خود بھی سچ بولنا ہوگا، چاہے سچ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔"
علی نے تلاش شروع کی۔ ہر قدم پر اسے چیلنجز ملے: ایک بھوکا بھیڑیا جسے کھانا جھوٹ بول کر مل سکتا تھا، ایک دریا جسے پار کرنے کے لیے علی کو اپنی سب سے بڑی کمزوری ظاہر کرنا پڑی۔ اور آخرکار، وہ ایک آئینے کے سامنے پہنچا۔
آئینہ بولا، "تمہیں سب سے بڑا جھوٹ دکھاؤں؟"
علی نے ہاں کہا، اور آئینے میں اسے اپنا ہی عکس نظر آیا۔
"جب تم نے اپنے دوست کو کہا تھا کہ تمہیں جادوئی دنیا کا دروازہ نہیں ملا، وہ پہلا جھوٹ تھا۔ اسی نے دروازے کی روشنی کم کر دی۔"
علی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے دل سے معافی مانگی، اور جیسے ہی اس نے سچ تسلیم کیا، پوری جادوئی دنیا روشن ہو گئی۔ جانور واپس آ گئے، پانی نے گانا شروع کر دیا، اور پری خوش ہو گئی۔
"یاد رکھو، علی، جادوئی دنیا کو زندہ رکھنے کے لیے صرف ایک چیز کافی ہے: سچائی۔"
اگر آپ چاہیں تو حصہ سوم بھی لکھ سکتا ہوں – ہو سکتا ہے علی اب کسی نئے راز کا سامنا کرے؟
Comments
Post a Comment