Urdu story*علاء الدین کا چراغ
**علاء الدین کا چراغ (زندہ دلی سے لکھی گئی کہانی)**
ایک زمانے میں **زندہ دلی** نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں کے لوگ سادہ مگر خوش مزاج تھے۔ ایک دن، ایک مسافر **علاء الدین** وہاں آیا، جس کے پاس ایک پرانا، مٹی سے اٹا ہوا چراغ تھا۔ گاؤں والوں نے اسے مذاق اڑایا: *"ارے بھئی! یہ چراغ تو کوڑے دان میں پھینکنے کے قابل بھی نہیں!"* مگر علاء الدین نے صرف مسکرا کر جواب دیا: *"دیکھو نا، کہیں یہ کوئی جادوئی چراغ تو نہیں!"*
### **چراغ کی صفائی اور جن کا ظہور**
علاء الدین نے چراغ کو رگڑا تو ایک دھویں کا بادل نکلا اور ایک **رنگ برنگا جن** ظاہر ہوا، جس نے زندہ دلی کے لوگوں کو حیران کر دیا۔ جن نے گڑگڑاتے ہوئے کہا: *"آقا! میں آپ کا غلام ہوں۔ تین خواہشیں پوری کروں گا، مگر ایک شرط ہے—ہر خواہش میں زندہ دلی کے لوگوں کی ہنسی شامل ہونی چاہیے!"*
### **تین خواہشیں**
1. **پہلی خواہش:** علاء الدین نے کہا: *"جن، ہمارے گاؤں میں ایک ایسا باغ لگا دو جہاں پھلوں کی جگہ **مٹھائیاں** اگیں!"*
- جن نے پلک جھپکتے ہی ایسا باغ بنا دیا جہاں **جلیبیوں کے درخت**، **رس گلے کے بیل**، اور **برفی کے تالاب** تھے۔ گاؤں والے ہنسنے لگے: *"یہ تو مٹھائیوں کی جنت ہے!"*
2. **دوسری خواہش:** علاء الدین نے کہا: *"اب ہمیں ایسا تھیٹر چاہیے جہاں **جانور ڈرامے کریں**!"*
- جن نے ایک سرکس بنا دیا جہاں بندر شیکسپیئر کا ڈرامہ پڑھتے، گدھے گیت گاتے، اور بلیاں **کتابوں پر تبصرہ** کرتی تھیں۔ لوگ قہقہے لگاتے ہوئے بولے: *"اب تو جانور بھی ہم سے زیادہ پڑھے لکھے ہو گئے!"*
3. **تیسری خواہش:** علاء الدین نے کہا: *"اب ہر گھر کی چھت پر ایک **ہوا میں تیرتی چائے کی دکان** بنا دو!"*
- جن نے ہر چھت پر چھوٹی چائے کی دکانیں بنا دیں جو ہوا میں تیرتی تھیں۔ لوگ چھتوں پر بیٹھ کر چائے پیتے اور کہتے: *"اب تو چائے بھی آسمان سے ملے گی!"*
### **سبق**
- یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ **خوشی اور ہنسی** کبھی ختم نہیں ہوتی۔
- جنات سے زیادہ **تخیل** طاقتور ہوتا ہے۔
- زندہ دلی کے لوگوں نے سیکھا کہ **جادو سے زیادہ اچھے دل کی بات** ہوتی ہے!
**اختتام:**
علاء الدین نے چراغ گاؤں والوں کو دے دیا اور کہا: *"اب تم بھی اپنی خواہشیں پوری کر سکتے ہو، بس دل سے ہنسنا مت بھولنا!"*
--- ۔
Comments
Post a Comment